Intezar Poetry in Urdu deeply captures the emotions of patience, longing, and silent hope, making it one of the most touching themes in Urdu literature. Renowned poets like Mirza Ghalib, Faiz Ahmed Faiz, and Nasir Kazmi portrayed waiting as a state where time slows down and emotions grow heavier. In their poetry, intezar is not just about waiting for a person, but also for love, change, and fulfillment.

Many Pakistani poets such as Jaun Elia, Ahmed Faraz, and Parveen Shakir expressed intezar as a painful yet beautiful experience. The waiting lover counts moments, reads memories, and lives between hope and despair. Through images of empty roads, silent nights, and restless eyes, these poets showed how waiting can become a constant companion of the heart.

Beyond romantic longing, Urdu intezar poetry also reflects social and emotional waiting. Faiz Ahmed Faiz and Habib Jalib used the idea of waiting to symbolize hope for justice, freedom, and better days. In this way, intezar poetry transforms personal pain into a universal feeling, connecting individual emotions with collective dreams and making Urdu poetry timeless and deeply meaningful. Intezar Poetry in Urdu Text | Deep Intezar Poetry in Urdu | Intezar Poetry 2 Lines | Urdu Poetry on Eyes | Urdu Shayari on Life

Intezar Poetry in Urdu

انتظار وہی کَر سکتا ہے، جِس نے
ایک ہی شخص میں پوری دنیا دیکھی ہو

بس انتظار رہتا ہے تمہارا
کبھی صبر سے کبھی بے صبری سے

ہر وقت ملتی رہتی ہے مجھے انجان سی سزا
میں تقدیر سے کیسے پوچھوں آ خر میرا قصور کیا ہے

دِل نے پھر آج کس کا انتظار رکھا ہے
خواب کی راہ میں دل کو بے قرار رکھا ہے

یاد کی روشنی میں جلتی رہی آنکھیں
رات بھر دل نے یہ درد آشکار رکھا ہے

انتظار کرتے کرتے خود کو کھو دیا میں نے…
بھائی کہتا تھا آؤں گا، مگر آیا نہیں

اُسے پتا ہی نہیں انتظار کا دُکھ!!
میں اس کےپاس کبھی دیر سے گیا ہی نھی~

تیرے ملال میں پاگل بنا پھرتا رہتا ہوں
منزل کا پتہ نہیں ہوتا ایسے ہی چلتا رہتا ہوں

کاش وہ لمحہ ٹھہر جاتا نظر کی حد پہ
نہ کوئی آغاز ہوتا نہ انجام بس ہم ہوتے

وہ آیا تو تھا پل بھر کو مگر ٹھہرا صدیوں جیسا
اب ہر اشک میں وہی قصہ بہتا ہے خاموش پانی بن کر

فراق یار میں بے خودی ہی اتنی تھی دوست
وہ روتے روتے سو گئے ہم سوتے سوتے روپڑے

جب تیری یاد اتی ہے
تو ہم سسکیاں بھر کے روتے ہیں

یادوں کی ہوا زخموں کی دوا بن گئی
دوری تمہاری میری چاہت کی سزا بن گئی

اور جو جانے کے بعد مُڑ کر بھی نہ دیکھے
اُسے یادوں کی خیرات دینا بھی زیادتی ہے

یقین تھا جس پر وہی چھوڑ گیا
خاموشیوں میں درد سارا بول گیا

ہماری خانہ بدوشی ہماری منزل ہے
ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دربدر آباد

بارشیں تمہارے شہر کی ہوں یا میری آنکھوں کی
یادیں کبھی دھلتی نہیں بس اور گہری ہو جاتی ہیں

گھڑی کی ٹک ٹک نے کہا: ‘اب سن لے!’
مگر میں نے ٹھہرے ہوئے وقت کو بھی خرید لیا

ہر صبح آئینے سے پوچھتا ہوں
‘کیا آج وہ میری طرف دیکھے گا؟’

برسات آئی، خزاں گئی، بہار بھی چلی
پر میرا انتظار اب بھی تیرے در پر ہے

تیرے گزرنے کی ہوا بھی آئے تو
درخت پتے جھاڑ کر تیرا انتظار کرتے ہیں

منزل سے پہلے ہی تھک گیا ہوں
پر تُو ملے بغیر چلنا ہے مجھے

ستارے گن گن کر سو گئیں آنکھیں
پر تیرا وعدہ ابھی تک ستارہ نہیں بنا

تمہارے انتظار میں کٹی راتیں بھی
تمہاری یادوں کی مہک سے مہک گئیں

کوئی دروازہ کھٹکھٹایا تو سمجھا تُو ہے
ہوا تھا صرف ہوا… پھر بھی انتظار رکھا ہے

ہر شام ڈھلے تیرے نام کی چپلیں گنتا ہوں
شاید کوئی صدا واپس آئے راستہ بدل کر

وقت نے پوچھا: ‘کتنا انتظار کرے گا؟’
میں نے کہا: ‘جتنا وہ چاہے… مگر اک بار تو آئے!’

ابھی خاموش ہوں تو کمزور نہ سمجھنا،
کل میرا صبر ہی تمہاری سزا بن جائے گا

الماری کو کھولا، خط کچھ پرانے نکل آئے
نہ جانے میرے چہرے پہ دانے کیسے نکل آئے

کتنی دیر لگا دی تم نے ملنے میں
اب تو عمر بھر کا انتظار ہو گیا

Leave A Reply

Please enter your comment!
Please enter your name here