Urdu poetry on eyes holds a special place in literature, and many renowned Pakistani poets have beautifully explored this theme. Poets like Mirza Ghalib, Faiz Ahmed Faiz, and Ahmed Faraz often used eyes as symbols of deep emotions and silent expressions. In their poetry, eyes reflect love, rebellion, longing, and inner pain, becoming a powerful language of the heart. Through rich metaphors, these poets turned a simple glance into a meaningful poetic image.
In romantic Urdu poetry, Pakistani poets such as Jaun Elia, Parveen Shakir, and Nasir Kazmi portrayed eyes as the center of attraction and emotional connection. A beloved’s gaze is shown as both comforting and destructive, capable of healing wounds or deepening desire. Shy, lowered eyes symbolize modesty, while bold, expressive eyes reveal passion and intensity. These poets compared eyes to stars, wine, or the darkness of night, giving romance a timeless beauty.
Beyond love, Urdu poetry by Pakistani poets also uses eyes to express sorrow, separation, and social awareness. Faiz Ahmed Faiz used eyes to reflect collective pain and hope, while Habib Jalib connected the imagery of eyes with resistance and truth. Tear-filled eyes represent loss and struggle, yet waiting eyes carry hope for a better tomorrow. Through the imagery of eyes, Pakistani poets transformed personal emotions into universal experiences, making Urdu poetry deeply moving and unforgettable. Romantic Urdu Poetry on Eyes | Urdu Poetry on Eyes Love | Sad Urdu Poetry on Eyes | Urdu Poetry on Eyes By Galib | 2 Lines Urdu Poetry on Eyes | Heart Touching Urdu Poetry on Eyes
Urdu Poetry on Eyes

آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا نہ کیجئے
سب دیکھتے ہیں آپ کو ایسا نہ کیجئے

اب یہ حسرت ہے کہ سینے سے لگا کر تجھ کو
اس قدر رووں کہ آنکھوں میں لہو آ جائے

تمہیں بھی آخر کو تھام لیں گے کئی سہارے
میری بھی آنکھوں پہ کون کافر نہیں مرے گا

شاید تو کبھی پیاسا میری طرف لوٹ آئے فراز
آنکھوں میں لیے پھرتا ہوں دریاتیری خاطر۔

اس کو دیکھ لیتی تھی تو بھوک مٹ جاتی تھی
میری آنکھوں کا رزق تھا میرے یار کا چہرہ

وہ جسے نیند کہاکرتے ہیں سب ،چین کی نیند
وہ تیرے بعد کبھی آنکھ میں اتری ہی نہیں ۔

وہ کہہ رہی تھی سمندر نہیں ہیں آنکھیں
ہیں میں ان میں ڈوب گیااعتبار کرتے ہوئے۔

پھر نہ کیجئے میری گستاخ آنکھوں کا گلہ
دیکھئے آپ نے پھر پیار سے دیکھا ہے مجھ کو

جزبات کے ہر بَاب کا عُنوان ہیں آنکھیں
غالب کی غزل میر کی دیوان ہیں آنکھیں

بڑے وثوق، دلیلوں کے ساتھ کرتی ہے
زباں دراز وہ آنکھوں سے بات کرتی ہے

کیا کروں تجھ سے خیانت نہیں کر سکتا میں
ورنہ اس آنکھ میں میرے لیے کیا کچھ نہیں تھا

ادا ہے ،خواب ہے ،تسکین ہے، تماشا ہے
ہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہے

تم تو لکھتے رہے میری آنکھوں پہ غزلیں
تم نے کبھی پوچھا نہیں کے روتے کیوں ہو

تیری خوشبو نے مری آنکھ کو بینائی دی
تیرے ہونے نے بتایا کہ نظر آتا ہے…

ہم تو فدا ہو گئے ہیں ان کی آنکھیں دیکھ کر
نہ جانے وہ آئینہ کیسے دیکھتی ہوگی

اس نے کہا تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں
ہم نے کہا تیز بارش کے بعد موسم اکثر پیارا ہی لگتا ہے

واقف غم، متبسم ، متکلم ، خاموش
تم نے دیکھی ہیں کہیں ایسی نرالی آنکھیں

تیری آنکھیں بتا رہی ہیں سب
کیا ضرورت ہے مسکرانے کی

نگاہ لطیف کے امیدوار ہم بھی ہیں
کبھی ملاؤ تو ہم سے بھی مہربان آنکھیں

صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

پرونا نہیں ہمیں آنکھوں میں انتظار
بس کہہ دیا نہ! آپ کو کھونا نہیں ہمیں

ہم نے دیکھا ہے بہت غور سے
تیرے چہرے پہ تیری آنکھیں کمال کرتی ہیں

دراز قامت، گلاب چہرہ، خمارآنکھیں اُجال رکھنا
تیری اداوں پہ ہم مر نہ جائیں خدا کی بندی خیال رکھنا

چلو آنکھیں ملا کر دیکھتے ہیں
کون کتنا اُداس رہتا ہے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے
دو زہر کے پیالوں میں قضا کھیل رہی ہے ۔۔

آنکھوں سے دور ہی سہی دل سے کہاں جاؤ گے
جانے والے تم ہمیں بہت یاد آؤ گے ۔۔۔

طلب ہوتی جب تیرے دیدار کی
ہم دونوں آنکھیں بند کر لیتے ہیں

جو انکی آنکھوں سے بیان ہوتے ہیں
وہ لفظ شاعری میں کہاں ہوتے ہیں

قید خانے ہیں بن سلاخوں کے کچھ ۔۔
یوں چرچے ہیں تمہاری آنکھوں کے














[…] Urdu Poetry on Eyes […]
[…] Urdu Poetry on Eyes […]
[…] Urdu Poetry on Eyes […]